Latest News Of Kashmir And Daily Newspaper

اُردوکے علاوہ 4دیگرزبانوں کوسرکاری زبانیں قراردینے کافیصلہ خوش آئندمگر گوجری اورپہاڑی زبانیں نظراندازکیوں؟ امتیازی سلوک ناقابل قبول :ایڈوکیٹ اکرم وایڈوکیٹ ذوالقرنین چوہدری

جے کے پہاڑی خبر نامہ

جموں// جموں کشمیریونین ٹیریری کیلئے گزشتہ بدھوارکو سرکاری زبان کے حوالے سے مرکزی کابینہ نے سرکاری بل 2020 کے مسودہ قانون کوپارلیمنٹ میں پیش کرنے کےلئے منظوری دی ، جس میں اردو کے علاوہ دیگر4 زبانوں یعنی انگریزی ،کشمیری،ہندی اورڈوگری شامل کی گئی ہیں۔مرکزی حکومت نے اس ضمن میں جواز پیش کیاہے کہ یونین ٹیریٹری کے لوگوں کی دیرینہ مطالبہ پوراکرتے ہوئے ڈوگری ،ہندی اورکشمیری زبانوں کوسرکاری زبانوں کادرجہ دینے کامنصوبہ ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے اُردواورانگریزی زبانیں ہی جموں وکشمیرکی سرکاری زبانوں کادرجہ رکھتی تھیں۔اگرچہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کاخیرمقدم کیاجارہاہے لیکن گوجری اورپہاڑی زبانوں کونظراندازکرنے کے سبب گوجراورپہاڑی عوام میں مرکزی حکومت کے خلاف شدیدناراضگی پائی جارہی ہے ۔جیساکہ ہم سب جانتے ہیں جموں وکشمیر میں مختلف مذہبوں ،طبقوں،قبیلوں اور مختلف زبانیں اوربولیاں بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔متنوع مذاہب وزبانوں کوبولنے والی آبادی کی توقعات اوران کے جذبات کااحترام کرنااوران کومناسب نمائندگی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن گوجری اورپہاڑی کوسرکاری زبانوں کی فہرست میں شامل نہ کرنے کوگوجراورپہاڑی طبقوں کی کثیرآبادی کے ساتھ ناانصافی تصورکیاجارہاہے۔واضح رہے کہ گوجری جہاں ایک طرف جموں وکشمیر کی 25لاکھ سے زائد گوجربکروال آبادی بولتی ہے وہیں گوجری زبان ہندوستان کی دیگرریاستوں مثلاً ہماچل پردیش ، گجرات ، راجستھان اوراتراکھنڈوغیرہ میں بھی سمجھی اوربولی جاتی ہے کیونکہ ان ریاستوں میں گوجری سے ملتی جلتی زبانیں بولی وسمجھی جاتی ہے۔اسی طرح پہاڑی زبان بھی پورے جموں وکشمیرمیں بولی جاتی ہے ۔خطہ پیرپنچال کے پہاڑی اورگوجری زبان کے ماہرین کاکہناہے کہ گوجری اورپہاڑی زبانیں نہ صرف علاقائی زبانیں ہیں بلکہ برصغیر کی معروف زبانوں میں سے ہیں لیکن مرکزی حکومت نے انہیں سرکاری زبانوں کے زمرے میں شامل نہ کرکے گوجراورپہاڑی عوام کے جذبات مجروح کئے ہیں۔جموں وکشمیر کے گوجری اورپہاڑی زبانوں کے ماہرین اوردانشوروں کے ساتھ ساتھ سماجی کارکنان ایڈوکیٹ محمداکرم اورایڈوکیٹ ذوالقرنین چوہدری ودیگران نے مشترکہ طورپراُردوکے علاوہ چاردیگرزبانوں کوسرکاری زبانیں بنانے کاہم خیرمقدم کرتے ہیں تاہم ہم مرکزی اوریوٹی حکومتوں سے گوجری اورپہاڑی زبانوں کوسرکاری زبانوں کی فہرست میں شامل کرنے کی پرزورمانگ کرتے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ اگرمرکزی حکومت نے اپنے فیصلے میں ترمیم نہ کی توآنے والے دنوں میں گوجراورپہاڑی عوام متحدہوکراپنی مادری زبانوں کے حقوق کےلئے احتجاج کاراستہ اختیارکرنے پرمجبورہوجائیں گی۔ایڈوکیٹ ذوالقرنین چوہدری اورایڈوکیٹ محمداکرم نے مشترکہ طورپرکہاکہ مرکزی حکومت ایک طرف گوجروں کے ساتھ انصاف کرنے کاواﺅیلامچارہی ہے اورساتھ ہی پہاڑی عوام کے حقوق دینے کی باتیں کررہی ہے لیکن مرکزی حکومت کے حالیہ فیصلے سے قطعی یہ نہیں لگ رہاہے کہ مرکزی حکومت گوجراورپہاڑی عوام کے تئیں مخلص ہے ۔انہوں نے کہاکہ نہ صرف ان زبانوں کوسرکاری زبانوں کادرجہ دیاجاناچاہیئے بلکہ آئین ہندکے آٹھویں شیڈول میں بھی شامل کیاجاناچاہیئے۔