Latest News Of Kashmir And Daily Newspaper

اپنے ہی گِراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں

تحریر نورالحسن اندرابی لولاب خورہامہ


اِس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس نے اپنا دبدبہ جمایا ہوا ہے۔پوری دنیا اِس وقت خاموش تماشائی بن کر بیٹھی ہوئی ہے۔تمام ممالک کو ایک وائرس نے ناک میں دم کر رکھ دیا۔ایٹمی ہتھیار بنانے والے تو دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے اور کل تک جو ممالک اپنے آپ کو خود دار ہونے کے بڑے بڑے دعوے کررہے تھے ایک دم میں وہ دعوے سراب نظر آئے۔بڑے بڑے ممالک کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے سائنس دان بھی اِس کے سامنے بے بس نظر آئے۔پوری دنیا لاک ڈاون کے بھنور میں ہے اور تمام ممالک اِس وبائی بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
بہر حال میں اپنے موضوع پر آتا ہوں۔جہاں ایک طرف اِس وبائی بیماری نے پوری دنیا کی نیندیں حرام کردی ہیں اور ہر ایک کو چاہئے امیر ہو یا غریب دونوں کو اپنے قبضے میں لے کر ایک ہی صف میں کھڑا کردیا وہی خصوصا دوسری جانب غریب طبقے سے وابستہ لوگ بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اِس کٹھن موقعے پہ وہ شش و پنج میں مبتلا ہیں اور جو دن کو مزدوری کرکے،اپنا خون پسینہ ایک کرکے اپنی زندگی بسا کرلیتے تھے لیکن آج اِس مشکل وقت میں ایک ایک روٹی کے لیے ترستے ہیں اور جب کبھی کبھار یہ غریب،یہ مفلس لوگ ہمارے در پہ خدا کا نام لے کر آتے ہیں تو ہمیں بہت ناگوار ہوتا ہے اور اگر خدا خوف ہوکر کچھ دیا بھی تو اِن کے ساتھ ایسے پیش آتے ہیں جیسے وہ سماج میں رہنے کے لیے کوئی حق نہیں رکھتے۔یہ سب کچھ قدرت کے ہاتھ میں ہے اور جس کو چاہئے امیر بنا سکتا ہے اور جس کو چاہئے غریبی کی زندگی میں ڈال سکتا ہے۔۔انسان چاہئے امیر ہو یا غریب دونوں میں قدرت کا امتحان ہے۔۔جو امیر ہوتا ہے اِس پہ یہ امتحان ہوتا ہے کہ وہ غریبوں اور لاچاروں کی مدد کیسے کرے اور اللہ کی دی ہوئی وسعتِ نعمتوں کو کہاں کہاں خرچ کرے گا اور غریب کے اوپر یہ امتحان ہوتا ہے کہ یہ غریب میرے اِس امتحان کو کیسے پاس کرے اور اللہ کی دی ہوئی مختصر سی دولت کو کس طرح خرچ کرے گا اور کیا غریب صبرو تحمل کا مظاہرہ کرسکتا ہے لیکن اللہ پاک کے نزدیک دونوں یکساں ہیں اور دور حاضر میں غریب لوگوں کی مدد کرنا ہم سب پر اولین فرض ہے اور ہمیں اُن کی مدد آج ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پہ  کرنی چاہیے۔
ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہر سے باہر تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں ایک بوڑھی عورت ملی۔بوڑھی عورت کے پاس کافی بوجھ باندھے اور چاروں طرف گھبرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس عورت کے پاس پہنچےاور پوچھا کیا بات ہے۔۔امی جی۔۔۔وہ کہنی لگی،بیٹا میں بوڑھی ہوں بوجھ زیادہ ہے یہاں پاس والے گاؤں میں جانا ہے،،سوچتی ہوں کس طرح جاؤں۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔ماں،،گھبراو مت،،لاؤ میں چھوڑ لے آتا ہوں۔یہ کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وہ سارا بوجھ  اُٹھالیا اور اِس مائی کے ساتھ ساتھ چلے۔۔جب مائی کے گھر سے واپس مڑنے لگے تو مائی نے کہا۔۔۔۔سُنو بیٹا تم نیک ماں باپ کے اولاد ہو۔۔میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔سُنا ہے کہ شہر میں ایک بڑا جادوگر آیا ہوا ہے اُس کی باتوں میں نہ آنا۔۔۔اُس کی بات جو کوئی سُنتا ہے یااُس کے پاس کھڑا ہوجاتا ہے وہ اُسی کا ہوجاتا ہے اور ہاں اُس کا نام محمد ہے۔۔میں اُسی کے ڈر سے شہر چھوڑ آئی ہوں۔۔یہ سُن کر آقا دو جہاں تاجدارِمدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب سےمُسکرا کر کہا۔۔۔۔اماں جی۔۔وہ محمد جس کا آپ ذکر کر رہی ہو وہ تو میں ہی ہوں۔۔یہ سُن کربوڑھی عورت کہنی لگی اگر تُم واقعی وہ محمد ہو تو ہزار بار قُربان ہوجاؤں تم پر۔۔اور اُسی وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو کلمہ پڑھا کر مسلمان بنوایا۔۔گویا اِس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دوسروں کی خدمت کس طرح کی جاتی ہے۔مفلسوں کی خدمت گزاری عیاں طور نہیں بلکہ خفیہ طور کی جاتی ہے۔دوسروں کی خدمت کرنا ہمیں حضرت ابوبکر صدیق سے سیکھ لینا چاہیے کہ کس طرح خوفیہ طور سے ایک اندھی بوڑھیا کی مدد اور خدمت  کرتے تھے۔۔
اِس وقت جہاں لاک ڈاون پورے ملک میں جاری ہے وہی اِس لاک ڈاون کے دوران غریبوں،محتاجوں اور مسکینوں کی مدد کرنا ہمارے پاس سنہری موقع ہے اور دنیا میں ہی جنت کمانے کا ذریعہ بن گیا ہے لیکن بدقسمتی سے اِس وقت اِن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ہم سب اپنے اپنے مصروفیات میں لگے ہوئے ہیں۔اگر چہ پچھلے چند ہفتوں سے تقریبا ہر ضلع میں  رضاکاروں،پولیس جوانوں اور دیگر لوگوں  نے جن کو اللہ تعالی نے مال و جائیداد میں وسعت فرمائی ہے اور انہوں نے اپنے کندھوں پہ یہ ذمہ دار لیتے ہوئے غریبوں،محتاجوں اور مسکینوں کی مدد کرنا شروع کردیا ہیں اور جوکہ ایک خوش آئند کی بات ہے لیکن اِن سے ایک پور زور التماس ہے کہ وہ بنیادی چیزیں غرباء میں تقسیم کرتے وقت ان کی تصویریں بطور سیلفی نہ لیں اور پھر برائے مہربانی کرکے اُن تصویروں کو شوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا ہمارے سماج کو زیب نہیں دیتا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محتاجوں اور مسکینوں میں تو عورتیں بھی تو شامل ہیں لیکن پھر  اِن کی تصویریں شوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا کیا دانستگی  ہے؟؟؟۔۔یہ بھی کسی کی بہن،ماں اور بیوی ہے اور کیا ہمیں اپنا مذہب یہی درس دیتا ہے۔کیا ہمارا دین ہمیں یہی سبق سیکھاتا ہیں۔۔کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہی پیغام دے کر گئے ہیں۔۔ہر گز نہیں۔۔۔
   راشن تھما دیا کسی نے سیلفی کے ساتھ ساتھ۔۔   جو مرنے  لگا تھا بھوک سے،،غیرت سے مر گیا۔۔

حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جو انسان دوسروں کی خدمت اس طریقے سے کرے کہ  اس کے بائیں ہاتھ کو معلوم ہی نہ ھو کہ داہیں ہاتھ نے کیا کچھ خرچ کیاتو اللہ تعالیٰ اس انسان کو قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا کریں گے جس دن اِس عرش کے سائے  کے سوا کوئی سایہ نہ ھوگا ۔۔۔کیوں نہ ہم بھی آج اس اہم موقعے پر ایسے ہی خدمات محتاجوں اور مسکینوں کی کریں کہ رب العالمین کے عرش کے سائے کے نیچے بننے کے حقدار بنے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ھم غرباء کی مدد اور خدمت خوفیہ طور سے کریں اور پھر ان کے ویڈیوز اور فوٹوز سوشل میڈیا پر وایرل نہ کریں۔۔۔
دوسری حدیث میں حضور علیہ السلام نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سےایک مرتبہ مخاطب ہو کر فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ خوف اپنی اُمت پر چھوٹے شرک کا ہے تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹا شرک کیا ھے ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ریاءکاری یعنی دکھلاوا۔۔۔اِس مبارک حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو طریقہ ھم آج اپنارہے ہیں اسمیں بالکل ریاکاری ھے۔گویا اس عالمی وباء میں غرباء کی امداد اس انداز سے کیا جاتا ہے کہ پھر ان کا فوٹو کھینچ کر سوشل میڈیا پر وائیرل کرے تاکہ دنیا ہماری تعریفوں کی بوچھاڑ کرے اور ہماری مقبولیت ساری دنیا میں عام ہوجاے  اوراس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ھم ریا کاری کررہے ہیں اور کچھ نہیں ۔۔
ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا،خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا۔خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا ۔۔کون اےاللہ کے رسول؟؟ فرمایا جس کے پڑوسی اس کے شر سے مامون و محفوظ نہیں ہوں۔گویا اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے ہمسائیوں کا مال و دولت ہڑپ کرے،اپنے پڑوسی کو معمولی سی بات پر تنگ کریں،فساد کریں،، نہیں بلکہ جو اِس وقت ہم دوسروں کی خدمت کرتے وقت اِن سے جو تصویریں کھینچتے ہیں اور پھر شوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں،کیا یہ صیح طریقہ ہے اور کیا تصویر آپ لوڈ کرتے وقت کیایہ ہمارے شر سے محفوظ رہے۔۔۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ تصویر شوشل میڈیا پر ڈالنے کے بعد اِن کے اوپر کیا کیا بیت جائے گی۔کن کن باتوں کا اِن کو سامنا کرنا پڑے۔۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اِن بیچاروں کو پھر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر یہ لوگ برداشت نہیں کرتے اور پھر خود کشی کرنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں۔۔دو منٹ کے لیے اپنے گرایباں کو جھانک لو اور پھر پوری دنیا میں یہ تصاویر دیکھی جاتی ہے ،،جہاں ایک طرف ہم ثواب کمانے کی کوشش کررہے ہیں وہی دوسری طرف ہم گناہوں کے دہانے پر بھی پہنچ رہے ہیں اور ثواب حاصل کرنے کے بجائے ہم گناہ ہی کرتے ہیں۔
جہاں ایک طرف غریبوں  محتاجوں  کی مدد کی جاتی ہے اور وہی دوسری جانب مدد کرنے والے اِن کے ساتھ سیلفی لے کر شوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کرنا ہمیں صحابیوں،اولیاؤں،بزرگوں سے سیکھ لینا چاہیے کہ وہ ضرورت مندوں کی ضرورتیں کیسے پوری کرتے تھے۔وہ غریبوں کی مدد کیسے کرتے تھے۔۔وہ غریبوں،محتاجوں اور مسکینوں کی مدد ایسے کرتے تھے کہ دوسرے ہاتھ کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ پہلے ہاتھ نے کیا لیا اور کیا دیا۔۔۔لیکن بد قسمتی سے یہاں جو بھی کچھ ہورہا ہے بس دِکھاوا کے لیے ہورہا ہے۔۔کیا شوشل میڈیا پر ان کی تصویریں اپ لوڈ نہ کرنے کے بغیر کیا اِن کی مدد نہیں کی جاسکتی؟؟؟ اور اگر یوں کہا جائے کہ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں تو بجا نہ ہوگا کیونکہ ہم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم خودار ہے،،ہمارے پاس دولت ہے۔ہم امیر لوگ ہیں اس لئے ہم غریبوں کی مدد کرتے ہیں ۔۔۔نہین۔۔۔۔ ہمیں ایسا کرنے سے بلکل احتراز کرنا چاہیے اور ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اُس حیثت کے اُمتی ہے جس کے لیے ساری کائنات کو وجود میں لایا گیا اور ایسا کرنا ہمیں کون شریعت کہتا اور سِکھاتا ہے۔۔اِس وقت ہمارے پاس جنت کمانے کا سنہری موقع ہے اور اِن کی مدد کرنا ہمارے لیے خوش بخت کی بات ہے۔یہ اِس وقت ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم  محتاجوں اور مسکینوں کا خیال رکھیں لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے بلکہ اِس محتاج،مسکین کو ہمارا معاشرہ حقیر نظر سے دیکھتا ہے۔کیا ہمیں اِس بات پہ یقین نہیں ہے کہ کل جو ہمارے سامنے شخص ہاتھ پھیلا رہا تھا اور آج وہی امیر ترین شخص بن گیا  اور کل تک جو شخص اپنے آپ کو امیر سمجھتا تھا آج ہمارے سامنے ہاتھ پھیلا رہا ہیں،سب کچھ تو قدرت کے ہاتھ میں ہے اور جس کو جس وقت چاہئے امیر بنا سکتا ہے اور جس کو جس وقت چاہئے غریب کی زندگی دے سکتا ہے۔
گویا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اِس نازک موقعے پہ غریبوں،مسکینوں کی خدمت خوفیہ طور سے خوب کرنی چاہیے اور اِن کی تصاویر کو اپ لوڈ کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ ہم جنت کماتے کماتے آخر جہنم کے حقدار نہ بنے۔۔شاید کہ اُتر جاے تیرے دل میں میری یہ بات۔۔

9596480830 contact writer