Latest News Of Kashmir And Daily Newspaper

بانہال میں عصمت دری کے بعد حاملہ لڑکی کے قتل کا سنسنی خیز معاملہ حل، دو ملزم گرفتار

ایس ایس پی رام بن کی پریس کانفرنس میں مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعظم ، عوامی سطح پر پولیس کی سراہنا

دانش وانی

۔بانہال // بانہال میں پولیس نے ایک نوجوان لڑکی کی عصمت دری کے بعد حاملہ بنا کر اسےقتل کرنے کے ایک سنسنی خیز اندھے قتل معاملے کو حل کرتے ہوئے اس میں ملوث دو افراد کو لاش ملنے کے 36گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا ہے – ایک ماہ سے گھر سے لاپتہ نوجوان لڑکی کی لاش کو ڈولیگام کے اوپری جنگلات چھان کوٹ کے مقام برآمد کیا گیا تھا – ایس ایس پی رام بن حسیب الرحمان نے بانہال میں اس سلسلے میں ایک پریس کا نفرنس کا انعقاد کر کے بتایا کہ پولیس کو30 جولائی کو زرائع سے معلوم ہوا کہ بانہال ٹھنڈی شاؤاں چھاؤاں کوٹ ڈولیگام کے علاقے میں ایک خاتون کی غیرہ شناخت شدہ لاش دیکھی گئی ہے – ایس ایس پی کے مطابق ایس ایچ او بانہال عابد حسین کی قیادت میں پولیس کی ایک ٹیم جائے واقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لیکر شناخت اور پوسٹ مارٹم کے لئے سب ضلع ہسپتال بانہال پہنچایا گیا – شناخت کے دوران گھر سے ایک ماہ سے لاپتہ لڑکی کے رشتہ داروں نے اس کی شناخت شیبینہ دختر بشیر احمد وانی ساکنہ سلاڑ وگن ناچلانہ کے طور پر کر لی – گھروں والوں کی شناخت بتانے کے بعد پولیس نے اس کی میڈیکل جانچ کے نمونے حاصل کر نے کے بعد اسے آخری رسومات کے لئے لواحقین کے سپرد کر دیاتھا – ایس ایس پی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا ہے یہ لڑکی جس کی عمر 22 سال کے قریب ہےعاشق حسین بٹ ولد گل محمد بٹ ساکنہ کاستی گڑھ نامی ایک شخص کے ساتھ تعلقات میں آکر حاملہ ہو گئی تھی -اُنہوں نے کہا کہ اس کے بعد عاشق حسین اپنے دوسرے ساتھی نثار احمد ولد غلام حسن زوہدہ کے لگاتار رابطہ میں تھا اور اسے کے بھی لڑکی سےگہرے تعلقات تھے – عاشق حسین نثار کو لڑکی کا حمل گرانے کے لئے طبی مدد لینے کے لئے کہہ رہا تھا – اُنہوں نے کہا کہ اس میں کامیاب نہ ہونے کے بعد انہوں نے مل کر اسے قتل کر نے کی سازش رچی – ایس ایس پی نے کہا کہ 29 جون کو عاشق حسین کے ساتھی نثار احمد نے فون پر لڑکی سے رابطہ کر کے اسے ڈولیگام۔ کے علاقے میں یہ کہہ کر بُلایا کہ عاشق حسین آپ سے شادی کے لئے آرہا ہے – اُنہوں نے کہا کہ اس روز اسے موقع نہ ملنے کے بعد یہ ایک گوجر اسرائیل کے ڈھوک میں پناہ یہ کہہ کر پناہ لی کہ انہیں گھر پہنچنے میں دیر ہو رہی ہے اور وہ رات کا قیام یہاں پر ہی کریں گے – دوسرے دن یعنی 30 جون کو اس نے اسے جنگل کی طرف لیا اور دوپہر 2 بجے کے قریب ایک سنسنان جگہ دیکھ کر اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیا اوروہاں سے فرار ہو گیا تھا – ایس ایس پی نے بتایا کہ لاش ملنے کے بعد فون ٹریسنگ پر اس قتل میں ملوث دو افراد کو 36 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا ہے – اُنہوں نے لاش ملنے کے بعد قاتلوں کو فوری طور پرگرفتار کر نے پر ماتحت پولیس کی سراہنا کی – ایس ایس پی نے اس موقع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر لواحقین نے پولیس کو لڑکی کی گمشدگی کے بارے میں بروقت پولیس کو معلومات فراہم کی ہوتی تو لوکیشن ٹریس کر کے انہیں اسی روز پکڑ کر لڑکی کو قتل ہونے سے بچایا جا سکتا تھا – اُنہوں نے عوام سے اپیل کی اس قسم کے گمشدگی کے کسی بھی واقع کو فوری طو ر پرپولیس میں رپورٹ کرنا چائے تاکہ پولیس بروقت کاروائی کر کے انسانی جان کو بچانے کے ساتھ ساتھ مجرمین کو پکڑ سکیں -ایس ایس پی نے اس معاملے میں عوامی تعاون فراہم کر نے پر مقامی لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا – اس معاملے میں پولیس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایک ایف آئی آر نمبر 115/2020 زیر دفعات 302/376 آئی پی سی کے علاوہ دیگر متعلقہ دفعات کے تحت بانہال پولیس اسٹیشن میں کیس درج کر لیا ہے – ایس ایس پی نمائندوں کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ قتل کے وقت لڑکی کا حمل گرایا گیا تھا یا موجود تھا یہ ایف ایس ایل رپورٹ آنے کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے -اُنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں جس بھی کوئی شخص اگر مزید ملوث پایا جائے گا اُنہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا -پولیس ٹیم نے یہ کاروائی ایس پی رام بن حسیب الرحمان کی خصوصی نگرانی اور ایس ڈی پی او آشش گپتا اور ایس ایچ او بانہال عابد حسین بخاری کی قیادت میں انجام دی ہے -ایس مقامی لوگوں نے بھی پولیس کی اس کاروائی کو سہراتے ہوئے مجرمین کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے – بتایا جاتا ہے کہ یہ دونوں ملزمین اس علاقے میں ریلوے پروجیکٹ کی ایک تعمیراتی کمپنی میں بطور ورکر کام کر رہے تھے اور اسی دوران یہ لڑکی کے رابطے میں آئے ہوئے تھے – اس موقع مقامی عوام کی ایک وفد بھی ایس ایس پی کو مل- اُنہوں نے انہیں یقین دلایا کہ مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا – اس موقع پر ایس، ایس ہی عوامی وفود سے بات کرتے ہوئے جذباتی بھی ہو گئے اور عوام سے اپیل کی کہ ایسے معملات میں عوام کو سامنے آنا چاہئے۔۔واضح رہے گھر والوں کی طرف سے لڑکی کی گمشدگی کے بارے میں کسی بھی پولیس اسٹیشن میں کوئی بھی رپورٹ درج نہ کرائی گئی تھی جس کی و جہ سے اس کی لاش تقریباً ایک ماہ کے بعد برامد ہوئی –