Latest News Of Kashmir And Daily Newspaper

بلاک کلاروس لولاب میں بلاک ڈیولپمنٹ چیر مین کی سرپنچوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی

۔

تعمیراتی منصوبوں کا لیا گیا جایزہ۔

کپواڑہ 11جولائی /بٹ مظفر

سرحدی ضلع کپواڑہ کے کلاروس لولاب میں بلاک ڈیولپمنٹ چیرمین نے بلاک کلاروس سے وابسطہ تمام پنچوں اور سر پنچوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد کی اس دوران مزکورہ میں پنچوں اور سرپنچوں کے ساتھ تعمیراتی منصوبوں پر غور ہوا جبکہ مقررین نے اس دوران بتایا کہ مزکورہ بلاک میں تعمیر وترقی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہی ہورہی ہے اور اکثر محکمہ جات کے ملازمین پنچایت ممبران کے ساتھ بر پور تعاون نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے مزکورہ بلاک میں تعمیر وترقی کا فقدان اور بنیادی سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے جبکہ سرکار ہر وقت اس بات کا ڈھونڈرا پیٹتی ہے کہ اب تعمیر وترقی کیلئے تمام تر اختیارات پنچایتوں کو تفویض کیے گئے ہیں تاہم زمینی حقائق اس کے بر عکس ہے اس دوران انہوں نے بتایا کہ مزکورہ علاقہ میں محکمہ دھی سدھار بلاک کلاروس کے ملازمین پنچایت ممبران کے ساتھ تعون کرنے کے بجائے زر خریدہ دلالوں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے ہیں اور انہی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں تاکہ انکی حرام کمائی کے مواقع مسدود نہ ہوسکیں اسی لئے علاقہ میں تعمیراتی کاموں کو مکمل طور پر عملانے میں دشواریاں درپیش ہیں اور کئ ناقابل برداشت نقصانات سے علاقہ کو گزنا پڑتا ہے اس دوران انہوں نے بتایا کہ مزکورہ بلاک میں محکمہ دھی سدھار بلاک کلاروس میں تعینات ملازمین ابھی بھی تعمیراتی کاموں کی عمل آوری کے دوران کمشن کی مانگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر ٹھیکیداروں کو زمینی سطح پر کاموں کو تعمیر کرنے کے دوران اتنا پیسہ بچانا پڑتا ہے تاکہ رقومات نکالنے کیلئے مزکورہ بلاک کے ملازمین کو کیمشن اد کر سکیں گیے جس کی وجہ سے زمینی سطح پر کاموں کیلئے مختص رقومات کا سوفیصد استعمال نہیں ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ محکمہ دھی سدھار بلاک کلاروس میں تعمیراتی کامیں دیر تک قائم نہیں رہ سکتی ہیں اس دوران انہوں نے تنزیہ انداز میں بتایا کہ مزکورہ بلاک میں ملازمین کیلئے کیمشن کی حد مقرر کی جاے اور کیمشن کو کاٹ کر رقومات کا حساب تعمیراتی کاموں پر لگایا جائے تاکہ ٹھیکدار کو کتنا کام کرنا ہوگا ۔اس دوران مزکورہ پنچوں اور سر پنچوں نے بتایا کہ مزکورہ بلاک میں پنچوں اور سرپنچون کو محکمہ دھی سداھار بلاک کلاروس میں تعینات انجینئروں، پنچایت سیکریٹری اور جی آر ایس حضرات نے مکمل طورپر یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ سب اپنی من مانی کرتے ہیں اور سرکاری رقومات میں بھاری تعداد میں خورد برد کرتے ہیں جس کیلئے کوئی پرسان حال نہیں ہے