علاج اورآمد ورفت کا پورا خرچ حکومت بہار برداشت کرے رہی ہے
مدھوبنی: 02 اپریل:کسی بچے کی پیدائش پورے خاندان کے لئے خوشی کا باعث بنتی ہے، مگر بچہ پیدائشی ہی کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو تو یہ کنبہ کے لئے مشکل بن جاتا ہے۔ ضلع کے راجن نگر بلاک کے گاؤں پلکھوار میں ایک 5 سال کا بچہ اویناش کمار اسی طرح کی بیماری میں مبتلا تھا، پیدائش کے بعد سے ہی اس کے دل میں سوراخ تھا، جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ راجن نگر آنگن باڑی مرکز میں وزیٹ کے دوران نیشنل چائلڈ ہیلتھ پروگرام (آر بی ایس کے) کی موبائل ہیلتھ ٹیم نے اس کی شناخت کی تھی۔ اس کے بعدبہار کے معزز وزیر اعلی اور محکمہ صحت کی پہل پر مدھوبنی ضلع کے دل کے مرض میں مبتلا 11 بچوں کی شری ستیہ سائیں اسپتال، احمدآباد کی ٹیم نے ایک خصوصی کیمپ میں جانچ کی، اور صرف مذکورہ بچے کو علاج کے لئے انڈیگو فلائٹ سے احمد آباد روانہ کیا گیا۔
پیدائش سے ہی بچے کے دل میں سوراخ تھا:بچے کے والد امیش کامت نے بتایا کہ بچے کا راجن نگر میں علاج کیا گیا تھا، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، اس کے بعد اس کا ڈی ایم سی ایچ میں علاج کرایا گیا، جہاں یہ معلوم ہوا کہ بچے کے دل میں سوراخ ہے۔ اس کے بعد بہتر علاج کے لئے پٹنہ کے ایک نجی نرسنگ اسپتال میں لے گیا۔ جہاں بچے کے دل کے آپریشن کیلئے 3 لاکھ لاگت بتائی گئی، اتنا مہنگا علاج امیش کامت کے لئے ممکن نہیں تھا۔ امیش روزانہ مزدوری کرکے اپنے اور اپنے کنبے کی پرورش کرتا ہے۔ تب آر بی ایس کے کی ٹیم نے ہم سے رابطہ کیا اور ریاستی حکومت ہمارے بچے کے دل کے آپریشن کے لئے احمد آباد بھیجا گیا ہے، بچے کے آپریشن کے تمام اخراجات ریاستی حکومت ہی برداشت کر رہی ہے۔
آر بی ایس کے نے کی مدد:آر بی ایس کے کے ضلعی کوآرڈینٹر ڈاکٹر کملیش شرما نے کہا کہ نیشنل چائلڈ ہیلتھ پروگرام (آر بی ایس کے) کے تحت ایسے بچوں کی سرجری بڑے سرکاری-نجی اسپتالوں میں مفت ہے۔ شرط ہے کہ بچے کا نام آنگن باڑی مرکز یا کسی سرکاری اسکول میں درج ہو۔ ان کے مطابق جب بچہ رحم مادر میں ہوتا ہے تو الٹراساؤنڈ رپورٹ سے بچے کے دل میں سوراخ کا پتا چل جاتا ہے۔ آر بی ایس کے، کے تحت پیدائشی بیماریوں میں مبتلا بچوں کی سرجری بلا معاوضہ کی جاتی ہے۔ دل میں سوراخ، کاٹے ہونٹوں اور جوڑے تالو والے بچوں کا بھی مفت میں علاج ہوتا ہے۔ ہارٹ ہول سرجری مہنگا ہے، اس کی قیمت ایک سے تین لاکھ روپے ہے۔ آر بی ایس کے کی ٹیم 0 سے 18 سال کے بچوں میں 45 قسم کی بیماریوں کا علاج اور آپریشن میں مدد کرتی ہے۔
بچوں کے گھروالوں کا کوئی خرچ نہیں ہوگا:آر بی ایس کے، کے ضلعی کوآرڈینٹر ڈاکٹر کملیش کمار شرما نے بتایا کہ اویناش کی پوری تحقیقات اور کارروائی کا عمل خود آر بی ایس کے نے ہی کرایا ہے۔ اس پورے آپریشن کے عمل میں کنبے کو کسی بھی طرح کی رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپریشن کے بعد بھی باقاعدہ معلومات آر بی ایس کے کی ٹیم بچے کے گھر جاکر لیتی رہے گی۔ آر بی ایس کے ٹیم ہمیشہ بچوں کی بہتر صحت کے لئے مستقل کام کرتی رہتی ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
