Latest News Of Kashmir And Daily Newspaper

ضلع کے اس گاؤں میں کورونا کے تعلق سے خواتین میں نظر آئی بیداری خواتین کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ قوانین پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی کرائیں

فوزیہ رحمٰن خان

گیا، 06 جولائی: اگر خواتین باخبر ہوں تو وہ نہ صرف ایک کنبہ بلکہ پورے معاشرے کا خیال رکھ کر اپنا اہم کردار نبھاتی ہیں۔ ایسی خواتین میں بسنتی دیوی بھی شامل ہیں۔ جب ان کے شوہر، جو بیرونی ریاست ملازمت کے لئے گئے تھے، کورونا بحران کے دوران واپس آئے تو، وہ اسے لے کر کوارنٹائین سنٹر پہنچ گئی اور اپنی موجودگی میں اسکریننگ کروائی۔ ڈاکٹروں نے اسے گھر پر ہی کوارنٹائین ہونے کا مشورہ دیا، وہ اپنے شوہر کے ساتھ گھر واپس آئی، ہاتھ دھونے اور ذاتی حفظان صحت کے قواعد پر سختی سے عمل کیا اور اپنے شوہر کو گھر سے باہر جانے سے بھی سختی کے ساتھ روکا۔
ضلع کے آمس بلاک کے ہردیے چک گاؤں کی رہائشی بسنتی نے بتایا کہ ان کے شوہر اشوک جب اوڈیشہ سے فون کے ذریعہ اپنے آنے کی خبر دی تو گھر کے باقی افراد پریشان ہوگئے۔ ہر کوئی کورونا مرض سے واقف تھااور سب یہ جانتے تھے کہ کوئی بھی باہر سے آنے والا شخص اس کے اثرات سے متاثر ہوسکتا ہے اور اس کی وجہ سے گھر اور گاؤں کے دوسرے افراد بھی اس کا شکار ہوجائیں گے۔ اس لئے بیرونی شخص کا بغیر ڈاکٹری جانچ کے گھر پر آنا خطرے سے خالی نہیں۔ بسنتی نے اپنے شوہر کو قریب ہی واقع کوارنٹائین مرکز کے بارے میں فون کے ذریعے آگاہ کیا اور اسے وہاں پہنچنے کو کہا۔ تاکہ گھر اور گاؤں کے

دوسرے لوگ اس مہلک بیماری کے شکار نہ ہوں۔
خواتین کی بیداری آئی کام: انیتا اور انجو ان خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے نسنتی دیوی کے شوہر اشوک کومرکز لے جانے میں مدد کی۔ یہ وہ باشعور خواتین ہیں جو سمجھتی ہیں کہ کورونا سے روک تھام کا سب سے طاقتور ذریعہ اس بیماری کے قواعد اور شعور کی پیروی کرنا ہے۔ انیتا نے بتایا کہ گاؤں کی خواتین نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت لوگ باقاعدگی سے اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں اور منہ۔ ناک کو ماسک یاگمچھہ سے ڈھانپنے کی عادت بنائیں۔ نیز جسمانی فاصلے کے قواعد پر عمل کریں اور بیماری سے بچیں۔ دوسری طرف انجو دیوی نے بتایا کہ جو بھی ہمارے گاؤں میں آتا ہے اسے پہلے ہیلتھ سینٹر بھیجا جاتا ہے تاکہ اس بیماری کے پھیلنے سے پہلے ہی اس کا علاج کیا جاسکے۔
ہوم کوارنٹائین کا حلف نامہ بھی دیاگیا: امدادی مرکز کے انچارج وریندر کمار چودھری نے بتایا کہ گذشتہ ماہ یکم جون کی شام کو بسنتی اپنے شوہر کے ساتھ مرکز پہنچی تھی۔ بسنتی نے اپنے شوہر کے اڑیسہ سے آنے کی بات بتا کر ا سے کوارنٹائین سینٹر میں رکھنے کی گزارش کرنے لگی۔ابتدائی طور پر، یہاں موجود ڈاکٹروں نے اسے ضروری تفتیش اور طبی جانچ کی۔ لیکن انفیکشن کے کوئی آثار نہ ملنے کے بعد، انہیں گھرپر ہی ہوم کوارنٹائین کا مشورہ دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک حلف نامہ بھی دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ضروری قواعد پر عمل کیا جائے۔
بیٹے کو دیکھ کر ماں کی آنکھوں سے آنسو جھلک پڑے:اشوک کی والدہ مالتی دیوی کی آنکھوں میں آنسو اس کی خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ بیٹے کی آمد کے بعد، وہ سمجھ نہیں پایا رہی تھیں کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن جب ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ اس کے لاڈلے کو کوئی بیماری نہیں ہے تو وہ گھر آگیا۔ چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے گاؤں کی خواتین کی مدد کے لئے شکریہ ادا کیا اورکہا کہ تمام بہووں کومیری بہو بسنتی کی طرح باخبر ہونا چاہئے۔