کپواڑہ 08جولائی اے پی آئی
سرحدی ضلع کپواڑہ کے تحصیل تارتھپورہ میں قایم محکمہ دھی سدھار عوام کیلئے درد سر ۔تعمیراتی کاموں میں بھاری بے ضابطگیاں اور ملازمین کی لاپرواہی کا شاخسانہ مقامی لوگوں کی ایک وفد نے خبررساں ادارے اے پی آئی کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ دھی سدھار بلاک تارتھپورہ میں تعینات ملازمین منظور نظر افراد کے ساتھ ساز باز کر کے تعمیراتی کاموں کو انجام دیتے ہیں جبکہ مزکورہ بلاک کے ملازمین عام آدمی سے پوشیدہ رہ کر دلالوں سے ساز باز کر کے تعمیراتی کاموں کے منصوبے تیار کرتے ہیں اور بلاک آفس میں ڈیوٹی پر نمایاں ہونے کے برعکس دلالوں کے ساتھ منتخب جگہوں پر ہی ضروت کے وقت آتے ہیں جبکہ سرکار کی طرف سے وضع کردہ ڈیوٹی شیڈول کے مطابق آفس میں نہیں رہتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو روز مرہ مسائل کے حوالے سے مزکورہ بلاک کے ملازمین کو کافی تلاش کرنا پڑتا ہے جبکہ مزکورہ بلاک میں ملازمین منظور نظر افراد کے ساتھ ساز باز کر کے تعمیراتی کاموں رقومات نکالنے کی حد تک ہی تعمیر کرواتے ہیں اور جہان پر مزکورہ بلاک میں سبھی پنچایت حلقوں میں تعمیر ترقی کا سوال ہے تو اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے جس کیلئے کوئی پرسان حال نہیں ہے جبکہ مزکورہ بلاک نے حلقہ پنچایت شہر کوٹ میں مڈل اسکول شہر کوٹ کے میدان کی ہمواری کا کام سال دوہزار سولہ سے جاری رکھا ہے اور ہر سال اس گراونڈ کی ہمواری کے حوالے سے اگرچہ لاکھوں روپے نکالے جاتے ہیں تاہم ابھی تک بھی مزکورہ گراونڈ کی لیولنگ کا کام مکمل نہیں ہوسکا اس کے علاوہ مزکورہ پنچایت حلقہ میں سال دوہزار سولہ سے ایم جی نریگا کے تحت ایک کام نامی جنرل روڈ سے کانی والی کوئل کے حوالے سے ڈرینیج کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تاہم 2016،17میں پہلے مرحلے میں مزکورہ کام کو نجی افراد کیلئے بنایا گیا جس سے عوام کیلئے عبور ومرور کی راہ مسدود ہوکر رہ گئی جبکہ سال2019اور20میں اسی کام کا دوسرا مرحلہ بنایا گیا اور آپاشی کوئل نزدیک زمین شمس الدین لون کے نامئ کلچر سے منصوب کر کے معمولی نوعیت کی تعمیر کی گئی اور ایک شخص کےذاتی فایدہ کیلئے بنائ گی اور تعمیر کے بعد مزکورہ شخص نے مزکورہ راہ کو مسدود کر دیا اس حوالے سے علاقہ شہرکوٹ کے ایک سر کردہ شخصیات محمد شفیع میر نے اے پی آئی کو بتایا کہ اس حوالے سے انہوں جب بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر بلاک تارتھپورہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ اس بارے میں انہوں نے جونیر انجینر اور مزکورہ حلقہ کے پنچایت سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کاموں کی رپورٹ آفس میں جمع کرایں ۔تاہم جونیر انجیر اور پنچایت سیکرٹری نے عوام کو بتایا کہ انہوں نے آفس میں رپورٹ دج کرائ ہے تاہم آفس ملازمین کے بقول مزکورہ ملازمین نے آفس میں کوئی رپورٹ نہیں پیش کی ہے بلکہ کسی تحقیقات کے بغیر ہی ٹھیکداران سے ساز باز کر کے سرکاری خزانے کو چونا لگایا گیا ہے جس کیلئے کوئی پرسان حال نہیں ہے جبکہ علاقہ رامحال کے دیگر پنچایت حلقوں سے بھی مقامی لوگوں نے اے پی آئی کو بتایا کہ مزکورہ بلاک کے ہر پنچایت حلقہ میں تعمیراتی کام میں خورد بر کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو لوٹنے میں کو کسر باقی نہیں رکھی جارہی ہے
